رائے عامہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - عام باشندوں کا (حکام کے سوا) نقطۂ نظر، رجحانات اور خیالات کی مجموعی صورت، عوام کی رائے۔ "بلند پایہ ادیب کے متعلق رائے عامہ کا بدلنا تو اور بھی کٹھن بن جاتا ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، قومی زبان، کراچی، جنوری، ٥٤ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسما 'رائے' اور 'عامہ' کو ملانے سے مرکب 'رائے عامہ' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٦٤ء کو "خطبات گارساں دتاسی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عام باشندوں کا (حکام کے سوا) نقطۂ نظر، رجحانات اور خیالات کی مجموعی صورت، عوام کی رائے۔ "بلند پایہ ادیب کے متعلق رائے عامہ کا بدلنا تو اور بھی کٹھن بن جاتا ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، قومی زبان، کراچی، جنوری، ٥٤ )

جنس: مؤنث